aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ba.Do.n"
مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہبڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
ہماری عمر سے بڑھ کر یہ بوجھ ڈالا گیاسو ہم بڑوں سے بزرگوں کی طرح ملتے ہیں
بڑوں بڑوں کے قدم ڈگمگائے جاتے ہیںپڑا ہے کام بدلتے ہوئے زمانے سے
سمجھ آتا ہے ہم کو دکھ بڑوں کاہم اپنے گھر کے بچوں میں بڑے ہیں
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔرہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے
بڑوں نے اس کو چھین لیا ہے بچوں سےخبر نہیں اب کیا ہو حال کھلونے کا
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہےاسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمیپھول بالوں میں اک سجانے کو
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانیجھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
بدن کے دونوں کناروں سے جل رہا ہوں میںکہ چھو رہا ہوں تجھے اور پگھل رہا ہوں میں
ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیایہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہےجاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدندیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میںبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھےکچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا
کسی کلی کسی گل میں کسی چمن میں نہیںوہ رنگ ہے ہی نہیں جو ترے بدن میں نہیں
غلط باتوں کو خاموشی سے سننا حامی بھر لینابہت ہیں فائدے اس میں مگر اچھا نہیں لگتا
تجھ سا کوئی جہان میں نازک بدن کہاںیہ پنکھڑی سے ہونٹ یہ گل سا بدن کہاں
میرؔ بندوں سے کام کب نکلامانگنا ہے جو کچھ خدا سے مانگ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books