aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "baraa.e"
برائے نام سہی کوئی مہربان تو ہےہمارے سر پہ بھی ہونے کو آسمان تو ہے
پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخرشجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت
نکتہ یہی ازل سے پڑھایا گیا ہمیںحوا برائے حسن ہے آدم برائے عشق
ذرا یہ دوسرا مصرع درست فرمائیںمرے مکان پہ لکھا ہے گھر برائے فروخت
خوشی میری گوارہ تھی نہ قسمت کو نہ دنیا کوسو میں کچھ غم برائے خاطر احباب اٹھا لائی
برائے سیر مجھ سا رند مے خانے میں گر آئےگرے ساغر لنڈھے شیشہ ہنسے ساقی بہے دریا
برائے اہل جہاں لاکھ کج کلاہ تھے ہمگئے حریم سخن میں تو عاجزی سے گئے
جواب دو کہ نہ دو اے بتو نہیں پرواکہوں جو کچھ وہ برائے خدا سنو تو سہی
ہم وہ فلک ہیں اہل توکل کہ مثل ماہرکھتے نہیں ہیں نان شبینہ برائے صبح
یہ مے کدہ ہے کہ مسجد یہ آب ہے کہ شرابکوئی بھی ظرف برائے وضو نہیں باقی
برائے نام ہی سہی بہ احتیاط کیجئےدرون کذب و افترا صداقتیں خلط ملط
تو بھی اس تک ہے رسائی مجھے احساں دشواردام لوں گر پر جبریل برائے پرواز
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہوایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سےالٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میںیہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے
میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہتانہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہے
تم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوںایسی جنت کو کیا کرے کوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books