aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "barsaa.e.n"
وہ سوال لطف پر پتھر نہ برسائیں تو کیوںان کو پروائے شکست کاسۂ سائل نہیں
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیںآنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہےجاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
اذیت مصیبت ملامت بلائیںترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کروہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملاجانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں
برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقیبادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سےکہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتا
آنکھوں سے محبت کے اشارے نکل آئےبرسات کے موسم میں ستارے نکل آئے
آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئیخشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی
بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائے
دور رہتی ہیں سدا ان سے بلائیں ساحلاپنے ماں باپ کی جو روز دعا لیتے ہیں
وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books