aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "black"
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیںمیں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہو گئے
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھکچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پرمرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوںبچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سےہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
لمحے اداس اداس فضائیں گھٹی گھٹیدنیا اگر یہی ہے تو دنیا سے بچ کے چل
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتیکشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیامیرے نزدیک خدا ہو جیسے
اک دندناتی ریل سی عمریں گزر گئیںدو پٹریوں کے بیچ وہی فاصلے رہے
غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوابارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلافوہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہدیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
وقت پیری دوستوں کی بے رخی کا کیا گلابچ کے چلتے ہیں سبھی گرتی ہوئی دیوار سے
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہےہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
ایک تختی امن کے پیغام کیٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ
موج موج طوفاں ہے موج موج ساحل ہےکتنے ڈوب جاتے ہیں کتنے بچ نکلتے ہیں
کیا عجب کار تحیر ہے سپرد نار عشقگھر میں جو تھا بچ گیا اور جو نہیں تھا جل گیا
تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کیموم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے
راہ رو بچ کے چل درختوں سےدھوپ دشمن نہیں ہے سائے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books