aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "branch"
لوگ کانٹوں سے بچ کے چلتے ہیںمیں نے پھولوں سے زخم کھائے ہیں
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحبوہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
سوچتا ہوں کہ اس سے بچ نکلوںبچ نکلنے کے بعد کیا ہوگا
بچ جائے جوانی میں جو دنیا کی ہوا سےہوتا ہے فرشتہ کوئی انساں نہیں ہوتا
ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کویہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو
لمحے اداس اداس فضائیں گھٹی گھٹیدنیا اگر یہی ہے تو دنیا سے بچ کے چل
امید تو بندھ جاتی تسکین تو ہو جاتیوعدہ نہ وفا کرتے وعدہ تو کیا ہوتا
سارے سپنے باندھ رکھے ہیں گٹھری میںیہ گٹھری بھی اوروں میں بٹ جائے گی
دریا کے تلاطم سے تو بچ سکتی ہے کشتیکشتی میں تلاطم ہو تو ساحل نہ ملے گا
مجھ سے بچ بچ کے چلی ہے دنیامیرے نزدیک خدا ہو جیسے
اک دندناتی ریل سی عمریں گزر گئیںدو پٹریوں کے بیچ وہی فاصلے رہے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلافوہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہدیہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے
جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادروہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا
ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیزیہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ
وقت پیری دوستوں کی بے رخی کا کیا گلابچ کے چلتے ہیں سبھی گرتی ہوئی دیوار سے
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہےہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
سارے جذبوں کے باندھ ٹوٹ گئےاس نے بس یہ کہا اجازت ہے
ایک تختی امن کے پیغام کیٹانگ دیجے اونچے میناروں کے بیچ
موج موج طوفاں ہے موج موج ساحل ہےکتنے ڈوب جاتے ہیں کتنے بچ نکلتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books