aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "captain"
ہم نے دکھا دکھا تری تصویر جا بہ جاہر اک کو اپنی جان کا دشمن بنا لیا
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیںدو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوےکفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ
وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میںاک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد
تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیںسزائیں بھیج دو ہم نے خطائیں بھیجی ہیں
تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیںتیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا
بچے فریب کھا کے چٹائی پہ سو گئےاک ماں ابالتی رہی پتھر تمام رات
تمام عمر جو کی ہم سے بے رخی سب نےکفن میں ہم بھی عزیزوں سے منہ چھپا کے چلے
جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کییہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں
کٹھن ہے کام تو ہمت سے کام لے اے دلبگاڑ کام نہ مشکل سمجھ کے مشکل کو
سزائیں تو ہر حال میں لازمی تھیںخطائیں نہ کر کے پشیمانیاں ہیں
پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیںہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے
وطن کی پاسبانی جان و ایماں سے بھی افضل ہےمیں اپنے ملک کی خاطر کفن بھی ساتھ رکھتا ہوں
دل کے تمام زخم تری ہاں سے بھر گئےجتنے کٹھن تھے راستے وہ سب گزر گئے
باہر سے چٹان کی طرح ہوںاندر کی فضا میں تھرتھری ہے
زندگی خود کو نہ اس روپ میں پہچان سکیآدمی لپٹا ہے خوابوں کے کفن میں ایسا
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلوبہت کڑا ہے سفر تھوڑی دور ساتھ چلو
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہوکہ غرور عشق کا بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا
خطائیں اس لئے کرتا ہوں میں کہ جانتا ہوںسزا مجھے ہی ملے گی خطا کروں نہ کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books