aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chashma-e-faiz"
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیضؔ تھی راہ سر بسر منزلہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہےجو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہےتو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ
جنس وفا کا دہر میں بازار گر گیاجب عشق فیض حسن کا حامل نہیں رہا
ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھے
بوسہ لیا جو اس لب شیریں کا مر گئےدی جان ہم نے چشمۂ آب حیات پر
چشمۂ آب رواں ہے جو سراب جاں میںاس کی ہر لہر میں رقصاں ہے ترنم تیرا
آرزوئے چشمۂ کوثر نئیںتشنہ لب ہوں شربت دیدار کا
شیخ جی گر گئے تھے حوض میں میخانے کےڈوب کر چشمۂ کوثر کے کنارے نکلے
آپ نے اچھا کیا تطہیر خواہش ہی نہ کیورنہ زمزم چشمۂ ناپاک ہوتا غالباً
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکافنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
تمہاری زلف نہ گرداب ناف تک پہنچیہوئی نہ چشمۂ حیواں سے فیض یاب گھٹا
جو شب کو خواب میں آیا وہ چشمۂ حیواںبہائے چشم نے رو رو کے خواب میں دریا
سرچشمۂ بقا سے ہرگز نہ آب لاؤحضرت خضر کہیں سے جا کر شراب لاؤ
میں تشنہ تھا مجھے سر چشمۂ سراب دیاتھکے بدن کو مرے پتھروں میں داب دیا
چشمۂ ناب نہ بڑھ کر جنوں سیلاب بنےبہہ نہ جائے کہ یہ مٹی کا مکاں ہے اب کے
یہ سچ ہے یا غلط ہم نے سنا ہے مرنے والوں سےترے خنجر میں قاتل چشمۂ حیواں کا پانی ہے
طرۂ کاکل پیچاں رخ نورانی پرچشمۂ آئینہ میں سانپ سا لہراتا ہے
کیا فراق و فیض سے لینا تھا مجھ کو اے نعیمؔمیرے آگے فکر و فن کے کچھ نئے آداب تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books