aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "darnaa"
مری نظر میں گئے موسموں کے رنگ بھی ہیںجو آنے والے ہیں ان موسموں سے ڈرنا کیا
موت برحق ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیساایک ہجرت ہی تو ہے نقل مکانی ہی تو ہے
بین کرتی ہوئی سمتوں سے نہ ڈرنا بانیؔایسی آوازیں تو اس راہ میں عام آئیں گی
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئےحق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
شرافتوں کی یہاں کوئی اہمیت ہی نہیںکسی کا کچھ نہ بگاڑو تو کون ڈرتا ہے
عذاب ہوتی ہیں اکثر شباب کی گھڑیاںگلاب اپنی ہی خوشبو سے ڈرنے لگتے ہیں
سہما سہما ڈرا سا رہتا ہےجانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارامٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہواگھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثےہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہےکہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیںجس نے سب کے گھر بنائے اوس کا گھر کوئی نہیں
یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہےکھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے
اٹھتے نہیں ہیں اب تو دعا کے لیے بھی ہاتھکس درجہ ناامید ہیں پروردگار سے
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
لوگ نفرت کی فضاؤں میں بھی جی لیتے ہیںہم محبت کی ہوا سے بھی ڈرا کرتے ہیں
سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستےایک آوارہ پھرے ہم در بدر سب سے الگ
مرے دل کے کسی کونے میں اک معصوم سا بچہبڑوں کی دیکھ کر دنیا بڑا ہونے سے ڈرتا ہے
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میںسنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوںابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books