aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "daryaaft"
اس کی تہہ سے کبھی دریافت کیا جاؤں گا میںجس سمندر میں یہ سیلاب اکٹھے ہوں گے
دریافت کر کے خود کو زمانے سے دور ہوںہر شخص با شعور ہے میں بے شعور ہوں
دریافت کر لیا ہے بسایا نہیں مجھےسامان رکھ دیا ہے سجایا نہیں مجھے
پوچھ لے پرویںؔ سے یا قیس سے دریافت کرشہر میں مشہور ہے تیرے فدائی کا عشق
بزم اغیار میں اس نے مجھے دریافت کیابعد مدت کے اسے یاد مری آئی ہے
مر گئے ؔجوشش اسی دریافت میںکیا کہیں ہے کون سی شے زندگی
پئے دریافت اسرار حقیقت سب ہیں سرگرداںفلک کے پار لیکن عقل انسانی نہیں جاتی
حال تو دریافت کر لیتے تھے اب وہ بھی نہیںخامشی پہلے ہمارے درمیاں ایسی نہ تھی
جو ذوق ہے کہ ہو دریافت آبروئے شرابتو چشم جام سے اے شیخ دیکھ سوئے شراب
سایہ ہے کم کھجور کے اونچے درخت کاامید باندھئے نہ بڑے آدمی کے ساتھ
ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیںباپ گھر کے درخت ہوتے ہیں
شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئےبس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا
درخت کٹ گیا لیکن وہ رابطے ناصرؔتمام رات پرندے زمیں پہ بیٹھے رہے
درخت کرتے نہیں اس لئے امید وفاوہ جانتے ہیں پرندوں کے پر نکلتے ہیں
مہندی لگانے کا جو خیال آیا آپ کوسوکھے ہوئے درخت حنا کے ہرے ہوئے
میں نے یے سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درختکون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا
پھل دار تھا تو گاؤں اسے پوجتا رہاسوکھا تو قتل ہو گیا وہ بے زباں درخت
وہ لمحہ جب مرے بچے نے ماں پکارا مجھےمیں ایک شاخ سے کتنا گھنا درخت ہوئی
عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہےدرخت نیکی بڑی خامشی سے کرتا ہے
موسم تمہارے ساتھ کا جانے کدھر گیاتم آئے اور بور نہ آیا درخت پر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books