aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "do-chaar"
وہی دو چار چہرے اجنبی سےانہیں کو پھر سے دہرانا پڑے گا
ابھی دو چار ہی بوندیں گریں ہیںمگر موسم نشیلا ہو گیا ہے
دکھ سے دو چار سال چھوٹا ہوںہجر سے ایک دن بڑا ہوں
مار لاتا ہے جوتیاں دو چار''جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے''
دکھ سے دو چار سال چھوٹا ہوںہجر سے ایک دن بڑا ہوں میں
عمر دو چار روز مہماں ہےخدمت مہماں کروں نہ کروں
اک نظر سرسری دو چار ضروری باتیںگھر میں رکھا کوئی اخبار سمجھتا ہے مجھے
وصل کے دوچار لمحے روز گن گن دیکھنارہ گیا تھا زندگی میں کیا یہی دن دیکھنا
آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرےجتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے
ہر آدمی میں تھے دو چار آدمی پنہاںکسی کو ڈھونڈنے نکلا کوئی ملا مجھ کو
دو چار دن سے میری سماعت بلاک تھیتم نے غزل پڑھی تو مرا کان کھل گیا
دو چار منزلوں ہی پہ سانسیں اکھڑ گئیںگھٹنوں پہ ہے زوال پتہ چل گیا مجھے
کچھ پرندوں کو تو بس دو چار دانے چاہئیںکچھ کو لیکن آسمانوں کے خزانے چاہئیں
دو چار نہیں سینکڑوں شعر اس پہ کہے ہیںاس پر بھی وہ سمجھے نہ تو قدموں پہ جھکیں کیا
دو چار دن کے ظلم نہیں ہیں یزید کےپیتے ہیں لوگ آج بھی پانی خرید کے
زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چاراس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی
اپنی مرضی سے بھی دو چار قدم چلنے دےزندگی ہم ترے کہنے پہ چلے ہیں برسوں
دو چار بار ہم جو کبھی ہنس ہنسا لئےسارے جہاں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لئے
دو چار برس جتنے بھی ہیں جبر ہی سہہ لیںاس عمر میں اب ہم سے بغاوت نہیں ہوتی
دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میںجتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books