aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fariyaad"
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سےوہ بھی اے شوخ ترا چاہنے والا نکلا
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئےخدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہےہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقتہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے
ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیامیں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسےتو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے
اظہار خموشی میں ہے سو طرح کی فریادظاہر کا یہ پردہ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شایدختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے
کرنا ہی پڑے گا ضبط الم پینے ہی پڑیں گے یہ آنسوفریاد و فغاں سے اے ناداں توہین محبت ہوتی ہے
تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھیجی بہلتا نہیں اے دوست تری یاد سے بھی
مایوس دلوں کو اب چھیڑو بھی تو کیا حاصلٹوٹے ہوئے پیمانے فریاد نہیں کرتے
دن کٹا فریاد سے اور رات زاری سے کٹیعمر کٹنے کو کٹی پر کتنی خواری سے کٹی
نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہےگھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے
مری ہستی ہے مری طرز تمنا اے دوستخود میں فریاد ہوں میری کوئی فریاد نہیں
جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مراقریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے
بند ہو جاتا ہے کوزے میں کبھی دریا بھیاور کبھی قطرہ سمندر میں بدل جاتا ہے
میرا مقصد کہ وہ خوش ہوں مری خاموشی سےان کو اندیشہ کہ یہ بھی کوئی فریاد نہ ہو
عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہےیہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل جگر تشنۂ فریاد آیا
لوگ پتھر کے تھے فریاد کہاں تک کرتےدل کے ویرانے ہم آباد کہاں تک کرتے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books