aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "fidaa-e-shokhi-e-inkaar"
ان بجلیوں کو رہنے دے اے شوخی نگاہشاید خبر نہیں ہے تجھے جل گیا ہوں میں
تہہ عارض جو فروزاں ہیں ہزاروں شمعیںلطف اقرار ہے یا شوخئ انکار کا رنگ
چلتی تو ہے پر شوخئ رفتار کہاں ہےتلوار میں پازیب کی جھنکار کہاں ہے
نیزہ ہو کہ پیالہ لب انکار سلامتیہ سلسلہ سقراط سے شبیر تلک ہے
چشم انکار میں اقرار بھی ہو سکتا تھاچھیڑنے کو مجھے پھر میری انا پوچھتی ہے
شوخیٔ حسن کے نظارے کی طاقت ہے کہاںطفل ناداں ہوں میں بجلی سے دہل جاتا ہوں
تمام پھول مہکنے لگے ہیں کھل کھل کرچمن میں شوخی باد صبا کو چھوتے ہی
ہاتھ کیوں باندھے مرے چھلا اگر چوری ہوایہ سراپا شوخیٔ رنگ حنا تھی میں نہ تھا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
اس شوخئ گفتار پر آتا ہے بہت پیارجب پیار سے کہتے ہیں وہ شیطان کہیں کا
حرف انکار ہے کیوں نار جہنم کا حلیفصرف اقرار پہ کیوں باب ارم کھلتا ہے
موسم بہار کا ہے چمن پر بہار ہےبلبل فدائے گل ہے گلوں پر نکھار ہے
طے ہو چکی ہے اس سے جدائی مگر منیرؔتو اس کے ساتھ لمحۂ انکار تک تو چل
شرم کب تک اے پری لا ہاتھ کر اقرار وصلاپنے دل کو سخت کر کے رشتۂ انکار توڑ
مار ڈالے گی ایک دن تنہاؔیہ تری شوخیٔ جمال مجھے
لائے گئے پہلے تو سر دشت اجازتمارے گئے پھر وادئ انکار میں ہم لوگ
نہ پوچھو ہم سفرو مجھ سے ماجرا وطنوطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن
کوچۂ یار مرکز انواراپنے دامن میں دشت غم کی خاک
اے شخص میں تیری جستجو سےبے زار نہیں ہوں تھک گیا ہوں
زنجیر زلف سیاہ سمندر نگاہ شوخجاؤں کہاں فرار کا رستہ کوئی تو ہو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books