aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "frame"
چاہے سونے کے فریم میں جڑ دوآئنہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
تصویر میں جو قید تھا وہ شخص رات کوخود ہی فریم توڑ کے پہلو میں آ گیا
حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایاکہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیںکہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں
فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھاکبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا
پرانے یار بھی آپس میں اب نہیں ملتےنہ جانے کون کہاں دل لگا کے بیٹھ گیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہےآدمی آدمی کو بھول گیا
قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طولکہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیںنئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے
پرانے لوگ دریاؤں میں نیکی ڈال آتے تھےہمارے دور کا انسان نیکی کر کے چیخے گا
بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگرکوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے
پرانے عہد میں بھی دشمنی تھیمگر ماحول زہریلا نہیں تھا
آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانے ہیںمہماں یہ گھر میں آئیں تو چبھتا نہیں دھواں
یہ اس کے پیار کی باتیں فقط قصے پرانے ہیںبھلا کچے گھڑے پر کون دریا پار کرتا ہے
پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہجہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز
اب کی ہولی میں رہا بے کار رنگاور ہی لایا فراق یار رنگ
بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیں
فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیںبتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books