aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "giida.d"
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیںمجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھاہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہوتجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔلب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گی
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔگرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میںہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سےاگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
پاس سے دیکھا تو جانا کس قدر مغموم ہیںان گنت چہرے کہ جن کو شادماں سمجھا تھا میں
چھپی ہے ان گنت چنگاریاں لفظوں کے دامن میںذرا پڑھنا غزل کی یہ کتاب آہستہ آہستہ
ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میںجب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے
یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پرکبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں
گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہاوہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہےشراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھجوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
کاسۂ چشم لے کے جوں نرگسہم نے دیدار کی گدائی کی
گھرا ہوا ہوں جنم دن سے اس تعاقب میںزمین آگے ہے اور آسماں مرے پیچھے
حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔجس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا
ان گنت خونی مسائل کی ہوا ایسی چلیرنج و غم کی گرد میں لپٹا ہر اک چہرہ ملا
بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیںغنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books