aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kabiida"
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
زندگی اک آنسوؤں کا جام تھاپی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے
زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخیسمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں
تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہشمیں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا
بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہےہم خفا کب تھے منانے کی ضرورت کیا ہے
غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھییہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی
میں بھی اپنی ذات میں آباد ہوںمیرے اندر بھی قبیلے ہیں بہت
مرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھامرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے
افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میںحصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میں
ادھر ادھر کے سنائے ہزار افسانےدلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئےخوابیدہ زندگی تھی جگا کر چلے گئے
کچھ تعلق بھی نہیں رسم جہاں سے آگےاس سے رشتہ بھی رہا وہم و گماں سے آگے
ازل سے تا بہ ابد ایک ہی کہانی ہےاسی سے ہم کو نئی داستاں بنانی ہے
ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاجہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہآئینہ تھا تو مگر قابل دیدار نہ تھا
اب تو بیمار محبت تیرےقابل غور ہوئے جاتے ہیں
تیرا کوچہ ترا در تیری گلی کافی ہےبے ٹھکانوں کو ٹھکانے کی ضرورت کیا ہے
قاصدا ہم فقیر لوگوں کااک ٹھکانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسوبسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا
روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھرزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books