aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kamaal-e-arz-e-suKHan"
یہ صحن ارض حرم ہے بہ احتیاط قدمبہت قریب خدا ہے ذرا سنبھل کے چلو
عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
اے دوست عرض غم پہ نہ یوں مسکرا کے دیکھاپنی نظر میں آپ گرا جا رہا ہوں میں
لہو ہی کتنا ہے جو چشم تر سے نکلے گایہاں بھی کام نہ عرض ہنر سے نکلے گا
لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئےکون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا
ہم حسین غزلوں سے پیٹ بھر نہیں سکتےدولت سخن لے کر بے فراغ ہیں یارو
جنوں ہوتا ہے چھا جاتی ہے حیرتکمال عقل اک دیوانہ پن ہے
اسی دن سے مجھے دونوں کی بربادی کا خطرہ تھامکمل ہو چکے تھے جس گھڑی ارض و سما بن کر
مجھے کمال سخن سے نوازنے والےسماعتوں کو بھی اب ذوق آشنائی دے
شامل نہ ہوتے حسن کے جلوے اگر کمالؔہوتا کہاں یہ نور شب ماہتاب میں
میں ہی غمگین نہیں ترک تعلق پہ کمالؔوہ بھی ناشاد تھا اس کو بھی فسردہ دیکھا
مرے لہو کو مری خاک ناگزیر کو دیکھیونہی سلیقۂ عرض ہنر نہیں آیا
اس کی مٹھی میں جواہر تھے نظر میری طرفاور مجھے پیرایۂ عرض ہنر آتا نہ تھا
فکر معیار سخن باعث آزار ہوئیتنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا
ہم آستان خدائے سخن پہ بیٹھے تھےسو کچھ سلیقے سے اب زندگی تباہ کریں
جنت صوفیا نثار دہر کی مشت خاک پرعاشق ارض پاک کو دعوت لا مکاں نہ دے
بے تکلف آ گیا وہ مہ دم فکر سخنرہ گیا پاس ادب سے قافیہ آداب کا
کمال طالب دنیائے دوں ہے پیر حرمخدا کے گھر میں ہے لیکن خدا سے باہر ہے
ہمارے دم سے ہے روشن دیار فکر و سخنہمارے بعد یہ گلیاں دھواں دھواں ہوں گی
کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم طوافخدا کا شکر سلامت رہا حرم کا غلاف
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books