aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "karachi"
کیوں میری طرح راتوں کو رہتا ہے پریشاںاے چاند بتا کس سے تری آنکھ لڑی ہے
منزلیں پاؤں پکڑتی ہیں ٹھہرنے کے لیےشوق کہتا ہے کہ دو چار قدم اور سہی
کل تو اس عالم ہستی سے گزر جانا ہےآج کی رات تری بزم میں ہم اور سہی
تحریر تھے خواب اور تمنا کے حوالےاتنا ورق دل کوئی سادہ تو نہیں تھا
سمندر کا کنارہ چھوڑنا آساں نہیں ہوتاکراچی شہر کی شامیں سہانی چھوڑ آئی ہوں
ہونٹوں پہ تبسم کا لبادہ تو نہیں تھااے دل سم اندوہ زیادہ تو نہیں تھا
مچھروں نے باندھ رکھی ہے کراچی میں ہواان کے اوپر کارگر ہوتی نہیں کوئی دوا
رات کو جیت تو پاتا نہیں لیکن یہ چراغکم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیںآنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
سب اک چراغ کے پروانے ہونا چاہتے ہیںعجیب لوگ ہیں دیوانے ہونا چاہتے ہیں
عجب چراغ ہوں دن رات جلتا رہتا ہوںمیں تھک گیا ہوں ہوا سے کہو بجھائے مجھے
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہمجو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
ہم تو رات کا مطلب سمجھیں خواب، ستارے، چاند، چراغآگے کا احوال وہ جانے جس نے رات گزاری ہو
چراغ گھر کا ہو محفل کا ہو کہ مندر کاہوا کے پاس کوئی مصلحت نہیں ہوتی
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخریہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہاس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہےسو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے
کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سےمگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہتپھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books