aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khilaa.o"
مسکراؤ بہار کے دن ہیںگل کھلاؤ بہار کے دن ہیں
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلودھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتا ہے
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
ہیں دلیلیں ترے خلاف مگرسوچتا ہوں تری حمایت میں
بات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہ
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلابکہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
ہم آپ قیامت سے گزر کیوں نہیں جاتےجینے کی شکایت ہے تو مر کیوں نہیں جاتے
ایک محبت کافی ہےباقی عمر اضافی ہے
آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیامیں اس قدر اڑا کہ خلاؤں میں کھو گیا
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
تمہیں خیال نہیں کس طرح بتائیں تمہیںکہ سانس چلتی ہے لیکن اداس چلتی ہے
لکھا تھا ایک تختی پر کوئی بھی پھول مت توڑے مگر آندھی تو ان پڑھ تھیسو جب وہ باغ سے گزری کوئی اکھڑا کوئی ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
مری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈنے والےتری نگاہ میں کچھ اور ڈھونڈتا ہوں میں
اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خللاحباب زیر خاک سلا کر چلے گئے
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
کچھ لوگ تو خلاف ہوں حاسد کوئی تو ہوکیا لطف سیدھی سادی محبت میں آئے گا
دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگےاداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے
تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلافآنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books