aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khilvaa.d"
آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریںیہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلابکہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
ابھی زندہ ہوں لیکن سوچتا رہتا ہوں خلوت میںکہ اب تک کس تمنا کے سہارے جی لیا میں نے
عجب محفل ہے سب اک دوسرے پر ہنس رہے ہیںعجب تنہائی ہے خلوت کی خلوت رو رہی ہے
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
میں سوچتا ہوں مجھے انتظار کس کا ہےکواڑ رات کو گھر کا اگر کھلا رہ جائے
دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگےاداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے
کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کالی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی
تھا وعدہ شام کا مگر آئے وہ رات کومیں بھی کواڑ کھولنے فوراً نہیں گیا
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو
اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلادیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہےاس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے
زلیخا بے خرد آوارہ لیلیٰ بد مزا شیریںسبھی مجبور ہیں دل سے محبت آ ہی جاتی ہے
مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھاآگ سے آگ بجھا پھول کھلا جام اٹھا
پھولوں میں وہی تو پھول ٹھہراجو تیرے سلام کو کھلا ہو
ہے حرف حرف زخم کی صورت کھلا ہوافرصت ملے تو تم مرا دیوان دیکھنا
پلا ساقیا مئے جاں پلا کہ میں لاؤں پھر خبر جنوںیہ خرد کی رات چھٹے کہیں نظر آئے پھر سحر جنوں
پھر بالوں میں رات ہوئیپھر ہاتھوں میں چاند کھلا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books