aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kool"
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
اب کے ساون میں شرارت یہ مرے ساتھ ہوئیمیرا گھر چھوڑ کے کل شہر میں برسات ہوئی
کل کائنات فکر سے آزاد ہو گئیانساں مثال دست تہ سنگ رہ گیا
شہبازؔ میں عیب ہی نہیں کلایک آدھ کوئی ہنر بھی ہوگا
صلح کل میں مری گزرے ہے محبت کے بیچنہ تو تکرار ہے کافر سے نہ دیں دار سے بحث
ہم دگر مومن کو ہے ہر بزم میں تکفیر جنگنیک صلح کل ہے بد ہے با جوان و پیر جنگ
ہماری کاروباری زندگی کا کل اثاثہیہ کچھ سکے ہیں اور کچھ پرچیاں رکھی ہوئی ہیں
سر پہ گر سائباں نہیں تو کیابھیا میرا تو کل جہاں ہو تم
آشفتگی ازل سے مرے آب و گل میں ہےکل لذت حیات غم جاں گسل میں ہے
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تراکچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا
ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یادوقت کتنا قیمتی ہے آج کل
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھکیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیںبھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
کل تک تو آشنا تھے مگر آج غیر ہودو دن میں یہ مزاج ہے آگے کی خیر ہو
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیےدو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
کہیں وہ آ کے مٹا دیں نہ انتظار کا لطفکہیں قبول نہ ہو جائے التجا میری
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظرآج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books