aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "lucknow"
کیا تباہ تو دلی نے بھی بہت بسملؔمگر خدا کی قسم لکھنؤ نے لوٹ لیا
دلی چھٹی تھی پہلے اب لکھنؤ بھی چھوڑیںدو شہر تھے یہ اپنے دونوں تباہ نکلے
کشش لکھنؤ ارے توبہپھر وہی ہم وہی امین آباد
یہی تشویش شب و روز ہے بنگالے میںلکھنؤ پھر کبھی دکھلائے مقدر میرا
شفق سے ہیں در و دیوار زرد شام و سحرہوا ہے لکھنؤ اس رہ گزر میں پیلی بھیت
زبان حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہےمٹایا گردش افلاک نے جاہ و حشم میرا
ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنیاور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزل
آج کل لکھنؤ میں اے اخترؔدھوم ہے تیری خوش بیانی کی
لکھنؤ میں پھر ہوئی آراستہ بزم سخنبعد مدت پھر ہوا ذوق غزل خوانی مجھے
بی اے میں پڑھ رہا ہے یہ نالج کا حال ہےنقشے میں لکھنؤ کو کہے کانپور ہے
جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسےکوئی لکنت بھی کہیں پر نہیں آنے دیتا
اول تو تھوڑی تھوڑی چاہت تھی درمیاں میںپھر بات کہتے لکنت آنے لگی زباں میں
رہتا ہے کلیجے میں نہاں درد محبتیہ چوٹ وہ ہے جس کو ابھرنا نہیں آتا
اقبالؔ لکھنؤ سے نہ دلی سے ہے غرضہم تو اسیر ہیں خم زلف کمال کے
تراب پائے حسینان لکھنؤ ہے یہیہ خاکسار ہے اخترؔ کو نقش پا کہیے
جو تیرے دل میں ہے وہ بات میرے دھیان میں ہےتری شکست تری لکنت زبان میں ہے
یگانہؔ وہی فاتح لکھنؤ ہیںدل سنگ و آہن میں گھر کرنے والے
لرزش نگہ میں لہجے میں لکنت عجیب تھیاس اولیں وصال کی وحشت عجیب تھی
ہو میرؔ کا زمانہ کہ موجودہ وقت ہودلی سے لکھنؤ کی ہمیشہ ٹھنی رہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books