aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "morche"
کاغذوں پر مفلسی کے مورچے سر ہو گئےاور کہنے کے لئے حالات بہتر ہو گئے
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہےاسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
وقار خون شہیدان کربلا کی قسمیزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگ ناگہانی اور ہے
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئےصحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے
نہ ہو کہ قرب ہی پھر مرگ ربط بن جائےوہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا
مرگ دشمن کا زیادہ تم سے ہے مجھ کو ملالدشمنی کا لطف شکوؤں کا مزا جاتا رہا
ہمارے بعد اس مرگ جواں کو کون سمجھے گاارادہ ہے کہ اپنا مرثیہ بھی آپ ہی لکھ لیں
یزید مورچہ جیتا تھا جنگ ہارا تھایہ سچ رگوں میں مرے انقلاب بھرتا ہے
مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیرکرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لیے
مرگ عاشق پہ فرشتہ موت کا بدنام تھاوہ ہنسی روکے ہوئے بیٹھا تھا جس کا کام تھا
کوئی خبر ہی نہ تھی مرگ جستجو کی مجھےزمیں پھلانگ گیا اپنے شوق بے حد میں
آہ مرگ آدمی پر آدمی روئے بہتکوئی بھی رویا نہ مرگ آدمیت کے لیے
سلگتی پیاس نے کر لی ہے مورچہ بندیاسی خطا پہ سمندر خلاف رہتا ہے
مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکناک مسیحا نفس کی بات گئی
بنا مرغے کے پر جھٹکتی ہیںمرغیاں در بہ در بھٹکتی ہیں
تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
کیبل پہ ایک شیف سے جلدی میں سیکھ کرلائی وہ شملہ مرچ کا حلوہ مرے لیے
شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریںجب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں
رسم اس گھر کی نہیں داد کسو کی دے کوئیشور و غوغا نہ کر اے مرغ گرفتار عبث
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books