aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mudarris"
سبق آ کے گور غریباں سے لے لوخموشی مدرس ہے اس انجمن میں
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصفہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا
حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کییاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی
حال دل یار کو محفل میں سنائیں کیوں کرمدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں
سنا ہے وہ بھی مرے قتل میں ملوث ہےوہ بے وفا ہے مگر اتنا بے وفا بھی نہیں
دل لے کے ان کی بزم میں جایا نہ جائے گایہ مدعی بغل میں چھپایا نہ جائے گا
جو طلب پہ عہد وفا کیا تو وہ آبروئے وفا گئیسر عام جب ہوئے مدعی تو ثواب صدق و وفا گیا
نہ مدارات ہماری نہ عدو سے نفرتنہ وفا ہی تمہیں آئی نہ جفا ہی آئی
یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیاہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔوہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے
زندگی فن نہیں مداری کاپانیوں سے دئے نہیں جلتے
چڑھتے سورج کی مدارات سے پہلے اعجازؔسوچ لو کتنے چراغ اس نے بجھائے ہوں گے
غضب ہے مدعی جو ہو وہی پھر مدعا ٹھہرےجو اپنا دشمن دل ہو وہی دل کی دوا ٹھہرے
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعیتم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے
تالیاں اس کا کبھی پیٹ نہیں بھر سکتیںچند سکے بھی ضروری ہیں مداری کے لیے
پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیںمدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں
سب کچھ پڑھایا ہم کو مدرس نے عشق کےملتا ہے جس سے یار نہ ایسی پڑھائی بات
آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھامدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھا
اس گلشن ہستی کا ہر رنگ نرالا ہےجب رونے لگی شبنم پھولوں کو ہنسی آئی
یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرایہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books