aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mulk-e-adam"
ملک عدم سے دہر کے ماتم کدے کے بیچآیا نہ کون کون کہ رونا نہ رو گیا
تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔبارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعتپھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں
لذت غم تو بخش دی اس نےحوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے
عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیںمقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا
بال رخساروں سے جب اس نے ہٹائے تو کھلادو فرنگی سیر کو نکلے ہیں ملک شام سے
بے گنہ کہتا پھرے ہے آپ کوشیخ نسل حضرت آدم نہیں
جانب راہ عدم جو بھی سدھارے جائیںعین ممکن ہے کسی روز پکارے جائیں
ہر گدا گوشۂ قناعت میںشاہ ہے ملک بے نیازی کا
بیان لغزش آدم نہ کر کہ وہ فتنہمری زمیں سے نہیں تیرے آسماں سے اٹھا
مٹا سکتی نہیں نفرت کو نفرت کی روش ہرگزبقائے نسل آدم کے لئے الفت ضروری ہے
طبل و علم ہی پاس ہیں اپنے نہ ملک و مالہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
اے عدم کے مسافرو ہشیارراہ میں زندگی کھڑی ہوگی
جلا چراغ عدم تو عجب اجالا ہواراہ وجود کی منزل دکھائی دینے لگی
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم کا خون ہے آخر
خاکساروں میں نہیں ایسی کسی کی توقیرقد آدم مری تعظیم کو سایا اٹھا
جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوامیں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا
روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہےاب نکلواؤ تو پھر حضرت آدم کی طرح
کون مر کر دوبارہ زندہ ہواکون ملک فنا سے لوٹا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books