aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "parad"
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑمیرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
زندگی پر بھی کوئی زور نہیںدل نے ہر چیز پرائی دی ہے
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گامجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیںمجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
یوں تو سارا چمن ہمارا ہےپھول جتنے بھی ہیں پرائے ہیں
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوںیا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں
تمہیں ہمیشہ ضرورت پکڑ کے لاتی ہےکبھی تو آؤ مرے گھر مرے حوالے سے
پھر یوں ہوا کہ صبر کی انگلی پکڑ کے ہماتنا چلے کہ راستے حیران رہ گئے
پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئےاسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا
تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوںمیرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم
کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گاعشق نے زور آزمائی کی
دریا سے موج موج سے دریا جدا نہیںہم سے جدا نہیں ہے خدا اور خدا سے ہم
میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والےپرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں
درد دل کی انہیں خبر کیا ہوجانتا کون ہے پرائی چوٹ
جو ہو سکا نہ مرا اس کو بھول جاؤں میںپرائی آگ میں کیوں انگلیاں جلاؤں میں
کھل گیا ان کی آرزو میں یہ راززیست اپنی نہیں پرائی ہے
اس لئے آرزو چھپائی ہےمنہ سے نکلی ہوئی پرائی ہے
جو سنتے ہیں کہ ترے شہر میں دسہرا ہےہم اپنے گھر میں دوالی سجانے لگتے ہیں
سبق ملا ہے یہ اپنوں کا تجربہ کر کےوہ لوگ پھر بھی غنیمت ہیں جو پرائے ہیں
پھر آج کیسے کٹے گی پہاڑ جیسی راتگزر گیا ہے یہی بات سوچتے ہوئے دن
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books