aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pardes"
برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگرماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
کیفؔ پردیس میں مت یاد کرو اپنا مکاںاب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا
تیری قربت میں یہ پردیس سے آیا ہوا شخصچھوڑ کر تجھ کو کہیں اور بھی جا سکتا ہے
میں ظفرؔ تا زندگی بکتا رہا پردیس میںاپنی گھر والی کو اک کنگن دلانے کے لیے
خوب گئے پردیس کہ اپنے دیوار و در بھول گئےشیش محل نے ایسا گھیرا مٹی کے گھر بھول گئے
دعائیں ماں کی پہنچانے کو میلوں میل جاتی ہیںکہ جب پردیس جانے کے لیے بیٹا نکلتا ہے
تو کیا ہوا جو جنمی تھی پردیس میں کبھیبیٹی ہے عرشیہؔ بھی تو ہندوستان کی
بعد مدت کے گلابوں کی مہک آئی ہےاس نے پردیس سے بھیجا کوئی خط ہے مجھ کو
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا
اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہم
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیںصاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
تو کہانی ہی کے پردے میں بھلی لگتی ہےزندگی تیری حقیقت نہیں دیکھی جاتی
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
میرے علاوہ اسے خود سے بھی محبت ہےاور ایسا کرنے سے وہ بے وفا نہیں ہوتی
زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔیہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گیمجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہوکیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں
خدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کاکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books