aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "piyaade"
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
قاصد پیام شوق کو دینا بہت نہ طولکہنا فقط یہ ان سے کہ آنکھیں ترس گئیں
اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیںکہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں
شکوۂ آبلہ ابھی سے میرؔہے پیارے ہنوز دلی دور
ہے سخت مشکل میں جان ساقی پلائے آخر کدھر سے پہلےسبھی کی آنکھیں یہ کہہ رہی ہیں ادھر سے پہلے ادھر سے پہلے
آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالواب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
یہ حسن دل فریب یہ عالم شباب کاگویا چھلک رہا ہے پیالہ شراب کا
کسی نے مول نہ پوچھا دل شکستہ کاکوئی خرید کے ٹوٹا پیالہ کیا کرتا
اس کے پیالے میں زہر ہے کہ شرابکیسے معلوم ہو بغیر پیے
ورنہ سقراط مر گیا ہوتااس پیالے میں زہر تھا ہی نہیں
پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیااشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا
دکھائے پانچ عالم اک پیام شوق نے مجھ کوالجھنا روٹھنا لڑنا بگڑنا دور ہو جانا
کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کوعمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو
تو نگاہوں سے پلانے کا جو وعدہ کر لےپھینک دوں گا یہ صراحی یہ بھرا جام ابھی
ترک شراب بھی جو کروں گا تو محتسبتوڑوں گا تیرے سر سے پیالہ شراب کا
مات کھائی ہے اکثر شاہ نے پیادے سےفرق کچھ نہیں پڑتا تاج اور لبادے سے
آیا پیام وصل یکایک جو یار کامعلوم یہ ہوا کہ گئے دن زوال کے
مورخ لکھ نہ دیں سقراط مجھ کومیں لسی کا پیالہ پی رہا ہوں
تیرے نثار ساقیا جتنی پیوں پلائے جامست نظر کا واسطہ مست مجھے بنائے جا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books