aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaabil-e-afv"
کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیںقابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے
آج قابلؔ مے کدے میں انقلاب آنے کو ہےاہل دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے
کوئی فضاؔ تو ملے ہم کو قابل پراوزاب ان حدوں میں بھلا بال و پر کہاں کھولیں
یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہےکہاں اس کو دماغ و دل رہا ہے
نفس کو مار کر ملے جنتیہ سزا قابل قیاس نہیں
اب تو بیمار محبت تیرےقابل غور ہوئے جاتے ہیں
آئینہ کبھی قابل دیدار نہ ہووےگر خاک کے ساتھ اس کو سروکار نہ ہووے
اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشقایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملا
آدم خاکی سے عالم کو جلا ہے ورنہآئینہ تھا تو مگر قابل دیدار نہ تھا
واعظو ہم رند کیوں کر کابل جنت نہیںکیا گنہ گاروں کو میراث پدر ملتی نہیں
طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جوابریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیںکہ جن کو پڑھ کے لڑکے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں
ایک پتھر پوجنے کو شیخ جی کعبے گئےذوقؔ ہر بت قابل بوسہ ہے اس بت خانے میں
ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔمجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے
کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔاپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو
حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیںاور تو سب کچھ تھا لیکن رسم دل داری نہ تھی
قبل آغاز ہی انجام کا ڈر ہوتا ہےدور اندیش بڑا تنگ نظر ہوتا ہے
رمضاں میں تو نہ جا رو بہ رو ان کے مائلؔقبل افطار بدل جائے گی نیت تیری
وہ تیل ڈال کے آیا ہے آج بالوں میںجلے گا روغن افعی سے انجمن میں چراغ
اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھاقائل ہی تری بات کا اندر سے نہیں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books