aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qaafiya"
شاعری تو واردات قلب کی روداد ہےقافیہ پیمائی کو میں شاعری کیسے کہوں
کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصرؔیہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو
شہر میں قافیہ پیمائی بہت کی آتشؔاب ارادہ ہے مرا بادیہ پیمائی کا
چاہئے رنگ تغزل بھی غزل میں پیارےشاعری نام نہیں قافیہ پیمائی کا
بے تکلف آ گیا وہ مہ دم فکر سخنرہ گیا پاس ادب سے قافیہ آداب کا
شعر کو مضمون سیتی قدر ہو ہے آبروؔقافیہ سیتی ملایا قافیا تو کیا ہوا
کیا بتاؤں میں تمہیں اس شہر کا جغرافیہبمبئی ہے اک غزل گڑ بڑ ہے جس کا قافیہ
زندگی یوں ہوئی بسر تنہاقافلہ ساتھ اور سفر تنہا
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹےتری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
ہم سفر چاہیئے ہجوم نہیںاک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدیمجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
اک حسیں آنکھ کے اشارے پرقافلے راہ بھول جاتے ہیں
آنکھ رہزن نہیں تو پھر کیا ہےلوٹ لیتی ہے قافلہ دل کا
آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملا
سر زمین ہند پر اقوام عالم کے فراقؔقافلے بستے گئے ہندوستاں بنتا گیا
اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہےآرزوؤں کا اک قافلا اور میں
روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہےکیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے
میرے پاس سے اٹھ کر وہ اس کا جاناساری کیفیت ہے گزرتے موسم سی
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں
مجروحؔ قافلے کی مرے داستاں یہ ہےرہبر نے مل کے لوٹ لیا راہزن کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books