aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rizq-e-numuu"
یہ انتہائے کار نمو ہے کہ جان جاںاس نے ترے بدن سی کوئی چیز خلق کی
متاع برگ و ثمر وہی ہے شباہت رنگ و بو وہی ہےکھلا کہ اس بار بھی چمن پر گرفت دست نمو وہی ہے
میری نیندیں حرام کیا ہوں گیگھر میں رزق حلال آتا ہے
ترا فراق تو رزق حلال ہے مجھ کویہ پھل پرائے شجر سے اتارا تھوڑی ہے
یہ کس لیے اے زمانہ تری کرے تقلیدشجرؔ کا رزق سخن کربلا سے آتا ہے
میں رزق خواب ہو کے بھی اسی خیال میں رہاوہ کون ہے جو زندگی کے امتحان میں نہیں
اب اس کے بعد مری قوت نمو جانےمیں لوٹ آیا ہوں مٹی میں گاڑ کر خود کو
مرے عقب میں ہے آوازۂ نمو کی گونجہے دشت جاں کا سفر کامیاب اپنی جگہ
نخل انا میں زور نمو کس غضب کا تھایہ پیڑ تو خزاں میں بھی شاداب رہ گیا
چمن میں شدت درد نمود سے غنچےتڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں
کون جانے تھا اس کا نام و نمودمیری بربادی سے بنا ہے عشق
ہو گیا موقوف یہ سوداؔ کا بالکل احتراقلالہ بے داغ سیہ پانے لگا نشو و نما
جو ساعت نمود وہی وقت رفت و بوددریا میں کتنی دیر سفر ہے حباب کا
صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کاگل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا
نمود صبح سے شب کی وہ تیرگی تو گئییہ اور بات کہ سورج میں روشنی کم ہے
منزل پہ نظر آئی بہت دورئ منزلبے ساختہ آنے لگے سب راہنما یاد
ہے مشتمل نمود صور پر وجود بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیاجہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا
نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل راتابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے
مجھ کو خبر رہی نہ رخ بے نقاب کیہے خود نمود حسن میں شان حجاب کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books