aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rush"
پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرحزلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کیآپ مجھ کو منا لیا کیجے
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیںرخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافلمجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر
زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لیےروٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میںنظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
زندگی بھر کے لیے روٹھ کے جانے والےمیں ابھی تک تری تصویر لیے بیٹھا ہوں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاںملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے
انہیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیںمیں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے
ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کی
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھومرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیںادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئیبدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئی
دنیا میں وہی شخص ہے تعظیم کے قابلجس شخص نے حالات کا رخ موڑ دیا ہو
دھمکا کے بوسے لوں گا رخ رشک ماہ کاچندا وصول ہوتا ہے صاحب دباؤ سے
جناب کے رخ روشن کی دید ہو جاتیتو ہم سیاہ نصیبوں کی عید ہو جاتی
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتیچلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
ہزار رخ ترے ملنے کے ہیں نہ ملنے میںکسے فراق کہوں اور کسے وصال کہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books