aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rustam"
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہےرستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے
رستم ہے گر جو عشق میں بن کر و فر کے آتہمینۂ بتاں کے یہاں بے سپر کے آ
تم زمانے کی راہ سے آئےورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چنپھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نےبات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیاکیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہےجس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہےسر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے
عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہےپر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے
عشق جب تک نہ کر چکے رسواآدمی کام کا نہیں ہوتا
جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کےاسی مقام سے اب اپنا راستا ہوگا
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئےحق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھےخدا کے واسطے دیکھو نہ مسکرا کے مجھے
ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرفپھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستا ملے
میری رسوائی کے اسباب ہیں میرے اندرآدمی ہوں سو بہت خواب ہیں میرے اندر
تمہارا نام آیا اور ہم تکنے لگے رستہتمہاری یاد آئی اور کھڑکی کھول دی ہم نے
کل سامنے منزل تھی پیچھے مری آوازیںچلتا تو بچھڑ جاتا رکتا تو سفر جاتا
خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکنتجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہےہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books