aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saa.e"
ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔکیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیںغموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
اپنے سائے سے چونک جاتے ہیںعمر گزری ہے اس قدر تنہا
یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہے
ہر طرف تھی خاموشی اور ایسی خاموشیرات اپنے سائے سے ہم بھی ڈر کے روئے تھے
سائے ہیں اگر ہم تو ہو کیوں ہم سے گریزاںدیوار اگر ہیں تو گرا کیوں نہیں دیتے
عجیب سانحہ مجھ پر گزر گیا یارومیں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو
شام کے سائے میں جیسے پیڑ کا سایا ملےمیرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی
یہ سوچ کر کہ درختوں میں چھاؤں ہوتی ہےیہاں ببول کے سائے میں آ کے بیٹھ گئے
اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائےجس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے
ہوگا بہت شدید تمازت کا انتقامسائے سے مل کے روئے گی دیوار دیکھنا
یہ اداسی یہ پھیلتے سائےہم تجھے یاد کر کے پچھتائے
کچھ دیر کسی زلف کے سائے میں ٹھہر جائیںقابلؔ غم دوراں کی ابھی دھوپ کڑی ہے
کبھی کبھی سفر زندگی سے روٹھ کے ہمترے خیال کے سائے میں بیٹھ جاتے ہیں
آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والےگھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے
کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہےاک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں
میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھرستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ جائے
اک شام کے سائے تلے بیٹھے رہے وہ دیر تکآنکھوں سے کی باتیں بہت منہ سے کہا کچھ بھی نہیں
گزرے ہزار بادل پلکوں کے سائے سائےاترے ہزار سورج اک شہ نشین دل پر
سوچتا ہوں کہ بجھا دوں میں یہ کمرے کا دیااپنے سائے کو بھی کیوں ساتھ جگاؤں اپنے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books