aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samiim"
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئےوہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھےمرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
اور اس سے پہلے کہ ثابت ہو جرم خاموشیہم اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےسر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے
گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسوپاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے
نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھاکہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا
ہم نے تو خود سے انتقام لیاتم نے کیا سوچ کر محبت کی
میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاںدیکھا جو غور سے تری تصویر بن گئی
در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہواگھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا
آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطرہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے
سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کوبات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے
آج رکھے ہیں قدم اس نے مری چوکھٹ پرآج دہلیز مری چھت کے برابر ہوئی ہے
کون سا جرم خدا جانے ہوا ہے ثابتمشورے کرتا ہے منصف جو گنہ گار کے ساتھ
کسی منزل میں بھی حاصل نہ ہوا دل کو قرارزندگی خواہش ناکام ہی کرتے گزری
بجھا ہے دل تو نہ سمجھو کہ بجھ گیا غم بھیکہ اب چراغ کے بدلے چراغ کی لو ہے
وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہےیہ دیکھنے کو کئی بار رک گیا ہوں میں
ہوا کی زد میں پتے کی طرح تھاوہ اک زخمی پرندے کی طرح تھا
وقت رک رک کے جنہیں دیکھتا رہتا ہے سلیمؔیہ کبھی وقت کی رفتار ہوا کرتے تھے
میں نے چاہا تھا کہ لفظوں میں چھپا لوں خود کوخامشی لفظ کی دیوار گرا دیتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books