aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sansad"
ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کروہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے
سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہےاک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے
افسوس یہ وبا کے دنوں کی محبتیںاک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
بن سنور کر رہا کرو حسرتؔاس کی پڑ جائے اک نظر شاید
موت سے پہلے جہاں میں چند سانسوں کا عذابزندگی جو قرض تیرا تھا ادا کر آئے ہیں
اسے معلوم تھا یہ شام جدائی ہے تو بسآخری بار بہت دیر اکٹھے بیٹھے
یا الہ آباد میں رہیے جہاں سنگم بھی ہویا بنارس میں جہاں ہر گھاٹ پر سیلاب ہے
جیوں گا میں تری سانسوں میں جب تکخود اپنی سانس میں زندہ رہوں گا
ہر خدا جنتوں میں ہے محدودکوئی سنسار تک نہیں پہنچا
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دومیں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
میرے رکتے ہی مری سانسیں بھی رک جائیں گیفاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
چند سانسوں کے لئے بکتی نہیں خودداریزندگی ہاتھ پہ رکھی ہے اٹھا کر لے جا
ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہےشرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
چاروں طرف بکھر گئیں سانسوں کی خوشبوئیںراہ وفا میں آپ جہاں بھی جدھر گئے
جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغمکمل وفا کی سند ہو گئی
ہر ایک شام سنور جائے گی مری محسنؔہر ایک بات تمہاری ہے شاعری کی طرح
راہ کا شجر ہوں میں اور اک مسافر تودے کوئی دعا مجھ کو لے کوئی دعا مجھ سے
تیرے لب کی پڑی تھی پرچھائیںمیرے لب میں مٹھاس اب تک ہے
ابھی نہ پھیرو نظر زندگی سنوار تو لیںکہ دل کے شیشہ میں ہم آپ کو اتار تو لیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books