aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shaam-e-gulshan"
بال رخساروں سے جب اس نے ہٹائے تو کھلادو فرنگی سیر کو نکلے ہیں ملک شام سے
کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں دیکھا نہیں پلکوں پر اکثریا شام غریباں کا جگنو یا صبح کا تارا ہوتا ہے
اے باغباں نہیں ترے گلشن سے کچھ غرضمجھ سے قسم لے چھیڑوں اگر برگ و بر کہیں
ابھی سے صبح گلشن رقص فرما ہے نگاہوں میںابھی پوری نقاب الٹی نہیں ہے شام صحرا نے
اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئیٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا
کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرفچاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت
ہمیں پہ ختم ہے معیار گلشن ہستیہمارے بعد نہ خوشبو چمن سے آئے گی
میں ایک شمع سر رہ گزار ہوں اجملؔنہ جانے کس لئے مجھ کو بجھانا چاہتا ہے
کوئی سمجھے گا کیا راز گلشنجب تک الجھے نہ کانٹوں سے دامن
سیا ہے زخم بلبل گل نے خار اور بوئے گلشن سےسوئی تاگا ہمارے چاک دل کا ہے کہاں دیکھیں
نیند آ چلی ہے انجم شام ابد کو بھیآنکھ اہل انتظار کی اب تک لگی نہیں
شام آئے اور گھر کے لیے دل مچل اٹھےشام آئے اور دل کے لیے کوئی گھر نہ ہو
برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیںصحن گلشن میں اجالا ہے خدا خیر کرے
کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میںلب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو
یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جاآنکھ منور دیکھ اس کا رنگ گلشن بھول جا
گرچہ تم تازہ گل گلشن رعنائی ہوپھر بھی یہ عیب ہے اک تم میں کہ ہرجائی ہو
شجر نے پوچھا کہ تجھ میں یہ کس کی خوشبو ہےہوائے شام الم نے کہا اداسی کی
چراغ شام غریبی تھا میں زمانے میںکسی نے آ کے نہ ٹھنڈا کیا جلا کے مجھے
شمع خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراںجس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books