aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shaper"
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیںیہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھاروٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
حقیقی اور مجازی شاعری میں فرق یہ پایاکہ وہ جامے سے باہر ہے یہ پاجامے سے باہر ہے
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سےیہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
کہاں تو طے تھا چراغاں ہر ایک گھر کے لیےکہاں چراغ میسر نہیں شہر کے لیے
دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہےنہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا
شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئےبس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گےیہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔاس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں
اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیاجس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا
آہ یہ مہکی ہوئی شامیں یہ لوگوں کے ہجومدل کو کچھ بیتی ہوئی تنہائیاں یاد آ گئیں
مجھے بھی لمحۂ ہجرت نے کر دیا تقسیمنگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف
کون بدن سے آگے دیکھے عورت کوسب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں
یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہے
بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپاڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھےتھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہےچڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھیاسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا
تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاںدل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے
برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاساتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books