aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sheva"
شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔمیرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئےپردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا
میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتیہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے
اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیمہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھالیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی
بے وفا تم ہوئے کی ترک محبت میں نےعشق بازی مرا شیوہ تھا مری ذات نہ تھی
غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہے
تو مجھے زہر پلاتی ہے یہ تیرا شیوہاے مری رات تجھے خون پلایا میں نے
کرایہ دار بدلنا تو اس کا شیوہ تھانکال کر وہ بہت خوش ہوا مکاں سے مجھے
کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیےاس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے
قسم ہی نہیں ہے فقط اس کا شیوہتغافل بھی ہے ایک انداز اس کا
طلسم شیوۂ یاراں کھلا تو کچھ نہ ہواکبھی یہ حبس دل و جاں کھلے تو بات چلے
شیوۂ افسردگی کو کم نہ بوجھخاک کا کہتے ہیں عالم پاک ہے
تو مجھے زہر پلاتی ہے یہ تیرا شیوہسر پھری رات تجھے خون پلایا میں نے
الجھنا لفظوں سے شیوہ ہے کم نگاہوں کاجو دیدہ ور ہیں وہ بین السطور دیکھتے ہیں
جب نگاہوں کے اشارات بدل جاتے ہیںخود بہ خود پیار کے جذبات بدل جاتے ہیں
بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریںکہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books