aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shevaa.ii"
شعر میرے بھی ہیں پر درد ولیکن حسرتؔمیرؔ کا شیوۂ گفتار کہاں سے لاؤں
ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عیداے جان یہی ہے مہ شوال ہمارا
رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئےپردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا
کچھ ظلم و ستم سہنے کی عادت بھی ہے ہم کوکچھ یہ ہے کہ دربار میں سنوائی بھی کم ہے
جب نگاہوں کے اشارات بدل جاتے ہیںخود بہ خود پیار کے جذبات بدل جاتے ہیں
میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتیہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے
اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبہ ہی کو ہو آئے
بے دھڑک پچھلے پہر نالہ و شیون نہ کریںکہہ دے اتنا تو کوئی تازہ گرفتاروں سے
بے پردہ سوئے وادی مجنوں گزر نہ کرہر ذرہ کے نقاب میں دل بیقرار ہے
ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوۂ اہل نظر گئی
سخت مشکل ہے شیوۂ تسلیمہم بھی آخر کو جی چرانے لگے
غیروں کی شکستہ حالت پر ہنسنا تو ہمارا شیوہ تھالیکن ہوئے ہم آزردہ بہت جب اپنے گھر کی بات چلی
بے وفا تم ہوئے کی ترک محبت میں نےعشق بازی مرا شیوہ تھا مری ذات نہ تھی
غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہے
عشق بازوں کی کہیں دنیا میں شنوائی نہیںان غریبوں کی قیامت میں سماعت ہو تو ہو
چلاؤں گا تیشہ میں اب عاجزی کاانا اس کی مسمار ہو کر رہے گی
تو مجھے زہر پلاتی ہے یہ تیرا شیوہاے مری رات تجھے خون پلایا میں نے
کرایہ دار بدلنا تو اس کا شیوہ تھانکال کر وہ بہت خوش ہوا مکاں سے مجھے
کافری عشق کا شیوہ ہے مگر تیرے لیےاس نئے دور میں ہم پھر سے مسلماں ہوں گے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books