aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shower"
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھاروٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سےیہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فرازؔاس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھےتھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
تم کہاں وصل کہاں وصل کی امید کہاںدل کے بہکانے کو اک بات بنا رکھی ہے
کتنے دل تھے جو ہو گئے پتھرکتنے پتھر تھے جو صنم ٹھہرے
شاعر کو مست کرتی ہے تعریف شعر امیرؔسو بوتلوں کا نشہ ہے اس واہ واہ میں
مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نےدرد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالےکوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا
ملنا نہ ملنا یہ تو مقدر کی بات ہےتم خوش رہو رہو مرے پیارے جہاں کہیں
تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آناہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے
اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھیروشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے
ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیںوہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو
تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کیکس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے
پھر مری آس بڑھا کر مجھے مایوس نہ کرحاصل غم کو خدا را غم حاصل نہ بنا
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرےوہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلینادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے
ترا نظام ہے سل دے زبان شاعر کویہ احتیاط ضروری ہے اس بحر کے لیے
میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری باتخوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books