aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sor"
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گےابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دیناحسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارکاک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گااتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہو جائے گا
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوتجس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تککون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئیہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
وہ نہ آئے گا ہمیں معلوم تھا اس شام بھیانتظار اس کا مگر کچھ سوچ کر کرتے رہے
یاد اسے انتہائی کرتے ہیںسو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگرسر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے
میں جب سو جاؤں ان آنکھوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دینایقیں آ جائے گا پلکوں تلے بھی دل دھڑکتا ہے
وہ زہر دیتا تو سب کی نگہ میں آ جاتاسو یہ کیا کہ مجھے وقت پہ دوائیں نہ دیں
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔمیں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیںجان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کاسو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گیتم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرایاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے
سو سو امیدیں بندھتی ہے اک اک نگاہ پرمجھ کو نہ ایسے پیار سے دیکھا کرے کوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books