aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "sugha.d"
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتیہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے
تم کیا جانو اپنے آپ سے کتنا میں شرمندہ ہوںچھوٹ گیا ہے ساتھ تمہارا اور ابھی تک زندہ ہوں
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظرآج وہ رونق بازار نظر آتے ہیں
اے دل بے قرار چپ ہو جاجا چکی ہے بہار چپ ہو جا
کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کوشہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائیاس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
شہر میں کس سے سخن رکھیے کدھر کو چلیےاتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے گھر کو چلیے
نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوزیہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہمزباں کوئی نہ ہو
پھر نئے سال کی سرحد پہ کھڑے ہیں ہم لوگراکھ ہو جائے گا یہ سال بھی حیرت کیسی
گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہےرہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہےجانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
آنکھ سے آنکھ ملانا تو سخن مت کرناٹوک دینے سے کہانی کا مزا جاتا ہے
کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہوکیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھاسوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سےدیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے
موت کہتے ہیں جس کو اے ساغرؔزندگی کی کوئی کڑی ہوگی
لوگ کہتے ہیں رات بیت چکیمجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں
جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہےکتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books