aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ta.aaruf"
آپ کو میرے تعارف کی ضرورت کیا ہےمیں وہی ہوں کہ جسے آپ نے چاہا تھا کبھی
سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میںمجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا
شکیبؔ اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہےہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
نہ تو ہوش سے تعارف نہ جنوں سے آشنائییہ کہاں پہنچ گئے ہیں تری بزم سے نکل کے
ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہےنہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے
اک تعارف تو ضروری ہے سر راہ جنوںدشت والے نئے برباد کو کب جانتے ہیں
کسی سے رسم و رہ دوستی تو کیا کرتےہمارا خود سے تعارف بھی غائبانہ تھا
لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھےسچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
زندگی کس طرح بسر ہوگیدل نہیں لگ رہا محبت میں
کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نےلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سےمحبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے
پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرحزلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرفکسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے
دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیںدوستوں کی مہربانی چاہئے
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی جیسےتمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہےکہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جاناجس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books