aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taabdaar"
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرہوش و خرد شکار کر قلب و نظر شکار کر
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بسخود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
کیسے آکاش میں سوراخ نہیں ہو سکتاایک پتھر تو طبیعت سے اچھالو یارو
ایک ہی تو ہوس رہی ہے ہمیںاپنی حالت تباہ کی جائے
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائےبہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
عشق کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہےپر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے
بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئیمیں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہےتڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میںہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداسرونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
دل کو سنبھالے ہنستا بولتا رہتا ہوں لیکنسچ پوچھو تو زیبؔ طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی
کچھ لوگ یوں ہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیںہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔاس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی
تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہشمیں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا
چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہیجلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
کیا تباہ تو دلی نے بھی بہت بسملؔمگر خدا کی قسم لکھنؤ نے لوٹ لیا
کچھ طبیعت ہی ملی تھی ایسی چین سے جینے کی صورت نہ ہوئیجس کو چاہا اسے اپنا نہ سکے جو ملا اس سے محبت نہ ہوئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books