aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "talab"
ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔکیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتابدل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہوتے تک
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنسجو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
کوئی چراغ جلاتا نہیں سلیقے سےمگر سبھی کو شکایت ہوا سے ہوتی ہے
بہار آئے تو میرا سلام کہہ دینامجھے تو آج طلب کر لیا ہے صحرا نے
یا تیرے علاوہ بھی کسی شے کی طلب ہےیا اپنی محبت پہ بھروسا نہیں ہم کو
روز دیوار میں چن دیتا ہوں میں اپنی اناروز وہ توڑ کے دیوار نکل آتی ہے
دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبردیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ
ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہےپڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے
طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میںمگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں
اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول ہے تو کھلےطرح طرح کی طلب تیرے رنگ لب سے ہے
بوسہ جو طلب میں نے کیا ہنس کے وہ بولےیہ حسن کی دولت ہے لٹائی نہیں جاتی
دن اندھیروں کی طلب میں گزرارات کو شمع جلا دی ہم نے
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکناب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
شوق سفر بے سبب اور سفر بے طلباس کی طرف چل دیے جس نے پکارا نہ تھا
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلبسر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں
اک ہاتھ میں میرے چائے کا کپ اک ہاتھ میں میرے ہاتھ تراہاتھوں کو طلب ہے ہاتھوں کی اور دل کو طلب ہے ساتھ ترا
مری مشکل مری مشکل نہیں ہےوسیلہ تیری آسانی کا میں ہوں
اب تو اس تالاب کا پانی بدل دویہ کنول کے پھول کمہلانے لگے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books