aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tazkiir"
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھااس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھیجس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دےہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے
عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئےحق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
کھو دیا تم کو تو ہم پوچھتے پھرتے ہیں یہیجس کی تقدیر بگڑ جائے وہ کرتا کیا ہے
عزیز تر مجھے رکھتا ہے وہ رگ جاں سےیہ بات سچ ہے مرا باپ کم نہیں ماں سے
اے رات مجھے ماں کی طرح گود میں لے لےدن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے
کوٹ اور پتلون جب پہنا تو مسٹر بن گیاجب کوئی تقریر کی جلسے میں لیڈر بن گیا
تحریر سے ورنہ مری کیا ہو نہیں سکتااک تو ہے جو لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا
جو ترے انتظار میں گزرےبس وہی انتظار کے دن تھے
چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیںدل کو پگھلائیں تو ہو سکتا ہے سانسیں نکلیں
ورق ورق تجھے تحریر کرتا رہتا ہوںمیں زندگی تری تشہیر کرتا رہتا ہوں
عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونااس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے
شہر کی اس بھیڑ میں چل تو رہا ہوںذہن میں پر گاؤں کا نقشہ رکھا ہے
آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھومنہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی
تدبیر سے قسمت کی برائی نہیں جاتیبگڑی ہوئی تقدیر بنائی نہیں جاتی
شاید یوں ہی سمٹ سکیں گھر کی ضرورتیںتنویرؔ ماں کے ہاتھ میں اپنی کمائی دے
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیباب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books