aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thar-thar"
شوخ ہواؤں کے آنچل میں تھم تھم کرشام سے ہی ہیں درد پرانے یاد آئے
رفاقتوں کا جہاں تار تار دیکھا ہےوجود زیست کا اڑتا غبار دیکھا ہے
چھیڑ معشوق سے کیجے تو ذرا تھم تھم کرروز کے نامہ و پیغام برے ہوتے ہیں
تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوںگویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا
ہمارے چاک گریباں کا تار تھا یہ کبھییہ جس پھریرے کو نکلے ہیں آپ لہرانے
سو بار تار تار کیا تو بھی اب تلکثابت وہی ہے دست و گریباں کی دوستی
پھر سی رہا ہوں پیرہن تار تار کوپھر داغ بیل ڈال رہا ہوں بہار کی
مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہےخزاں سے بڑھ کے گلوں پر ستم بہار کا ہے
ایسا کروں گا اب کے گریباں کو تار تارجو پھر کسی طرح سے کسی سے رفو نہ ہو
تر بہ تر ہو کر رہیں تا زندگیاے گھٹا اک روز ہم پر یوں برس
کرنے بیٹھا شمار خود کو میںسامنے کوئی تار تار آیا
پہلے سیتے ہیں ہم گریباں کوپھر اسے تار تار کرتے ہیں
صحرا کا کوئی پھول معطر تو نہیں تھاتھا ایک چھلاوا کوئی منظر تو نہیں تھا
ادائے خار سے گلشن کی بڑھ گئی زینتاگرچہ پھولوں کے دامن ہیں تار تار ابھی
جنوں کے ہاتھ سے ہے ان دنوں گریباں تنگقبا پکارتی ہے تار تار ہم بھی ہیں
نظر تو پھیر مرے کاغذی بدن کی طرفابھی یہ ضرب مسلسل سے تار تار نہیں
یہی نہیں کہ نگاہوں کو اشک بار کیاترے فراق میں دامن بھی تار تار کیا
فصل گل آ گئی ہے اہل جنوںپھر گریباں کو تار تار کریں
احساس جرم جان کا دشمن ہے جعفریؔہے جسم تار تار سزا کے بغیر بھی
وسعت طلسم خانۂ عالم کی کیا کہوںتھک تھک گئی نگاہ تماشے نہ کم ہوئے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books