aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "thor"
تم اپنے ٹھور ٹھکانوں کو یاد رکھو سازؔہمارا کیا ہے کہ ہم تو کہیں بھی رہتے ہیں
میں تو تھا موجود کتاب کے لفظوں میںوہ ہی شاید مجھ کو پڑھنا بھول گیا
میں وہم ہوں کہ حقیقت یہ حال دیکھنے کوگرفت ہوتا ہوں اپنا وصال دیکھنے کو
سفر نہ ہو تو یہ لطف سفر ہے بے معنیبدن نہ ہو تو بھلا کیا قبا میں رکھا ہے
بہت کہا تھا کہ تم اکیلے نہ رہ سکو گےبہت کہا تھا کہ ہم کو یوں در بدر نہ کرنا
کب تک تو آسماں میں چھپ کے بیٹھے گامانگ رہا ہوں میں کب سے دعا باہر آ
بند پڑے ہیں شہر کے سارے دروازےیہ کیسا آسیب اب گھر گھر لگتا ہے
ان سے کیا رشتہ تھا وہ کیا میرے لگتے تھےگرنے لگے جب پیڑ سے پتے تو میں رویا بہت
اس کو کھونا اصل میں اس کو پانا ہےحاصل کا ہی پرتو ہے لا حاصل میں
ایک دیا دہلیز پہ رکھا بھول گیاگھر کو لوٹ کے آنے والا بھول گیا
سب کا دامن موتیوں سے بھرنے والےمیری آنکھ میں بھی اک آنسو رکھنا تھا
یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں درکارعجب طرح کا یہ سارا جہان ہو گیا ہے
اک آگ سی اب لگی ہوئی ہےپانی میں اثر کہاں سے آیا
وہ بھی مجھ کو بھلا کے بہت خوش بیٹھا ہےمیں بھی اس کو چھوڑ کے طورؔ نہال ہوا
ساری عمر کسی کی خاطر سولی پہ لٹکا رہاشاید طورؔ میرے اندر اک شخص تھا زندہ بہت
رکھا ہے ٹھور مجھ کو کہروے کے ناچ نےکولھا کہیں کو جاوے ہے اس کا، کمر کہیں
دونوں بہر شعلۂ ذات دونوں اسیر انادریا کے لب پر پانی دشت کے لب پر پیاس
میں کس سے کرتا یہاں گفتگو کوئی بھی نہ تھانہیں تھا میرے مقابل جو تو کوئی بھی نہ تھا
کیوں مجھے محسوس یہ ہوتا ہے اکثر رات بھرسینۂ شب پر چمکتا ہے سمندر رات بھر
میں جب پیڑ سے گر کے زمیں کی خاک ہواتب اک عالم موہوم سمجھ میں آیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books