aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vasaa.il"
میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرےمیرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرے
روز و شب حیات کے خانوں میں بانٹ کرقسطوں میں خود کشی کے وسائل ہوئے ہیں لوگ
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسےتیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گاکسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میںکہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سےمیں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گیدیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہے
آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہے
ویسے تو اک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائےایسے کوئی طوفان ہلا بھی نہیں سکتا
دکھ اپنا اگر ہم کو بتانا نہیں آتاتم کو بھی تو اندازہ لگانا نہیں آتا
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیںاتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کوخوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتاکسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرنا
تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوںزمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے
مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہےکہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتے
شرطیں لگائی جاتی نہیں دوستی کے ساتھکیجے مجھے قبول مری ہر کمی کے ساتھ
آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازیکسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books