aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zad"
ہوا کی زد میں پتے کی طرح تھاوہ اک زخمی پرندے کی طرح تھا
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھےکہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے
ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہمکیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لیے
ایک مشت خاک اور وہ بھی ہوا کی زد میں ہےزندگی کی بے بسی کا استعارہ دیکھنا
دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کیدیا جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا
وقت رخصت تری آنکھوں کا وہ جھک سا جانااک مسافر کے لیے زاد سفر ہے اے دوست
جانے کن رشتوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے کہ میںمدتوں سے آندھیوں کی زد میں ہوں بکھرا نہیں
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہوچراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
ظفرؔ زمیں زاد تھے زمیں سے ہی کام رکھاجو آسمانی تھے آسمانوں میں رہ گئے ہیں
طوفان کی زد میں تھے خیالوں کے سفینےمیں الٹا سمندر کی طرف بھاگ رہا تھا
اب بن کے فلک زاد دکھاتے ہیں ہمیں آنکھذرے وہی کل جن کو اچھالا تھا ہمیں نے
بستیوں میں ہونے کو حادثے بھی ہوتے ہیںپتھروں کی زد پر کچھ آئنے بھی ہوتے ہیں
لہو کے کنارے بھی زد پر ہیں دونوںیہ کیا زخم ہے مندمل ہونے والا
خالی ہاتھ نکل گھر سےزاد سفر ہشیاری رکھ
پیا کی یاد سوں پیتا ہوں میں مےہمارا حال کیا جانیں گے سکھ زاد
اس طرح قحط ہوا کی زد میں ہے میرا وجودآندھیاں پہچان لیتی ہیں بہ آسانی مجھے
سورج چڑھا تو پھر بھی وہی لوگ زد میں تھےشب بھر جو انتظار سحر دیکھتے رہے
پھولوں کی زد میں آ کے کہیں جان سے نہ جائےمیں نے اسی خیال سے تتلی اڑائی ہے
میں سنگ رہ ہوں تو ٹھوکر کی زد پہ آؤں گاتم آئینہ ہو تو پھر ٹوٹنا ضروری ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books